منگل 14 جولائی 2026 - 22:45
رہبر شہید (ره) کے مشن، اتحاد امت اور انقلاب اسلامی کی ترویج پر زور / انقلاب اسلامی نے علماء اور دینی قیادت کو عزت و وقار عطا کیا، مقررین

حوزہ / دفتر قائد ملت جعفریہ کی جانب سے قم المقدسہ میں "احیاء گر بیداری اسلامی و علمدار مقاومت" کے عنوان سے ایک فکری و تربیتی سمینار منعقد ہوا۔ جس میں جس میں طلاب و علماء نے بھرپور شرکت کی۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، دفتر قائد ملت جعفریہ کی جانب سے قم المقدسہ میں "احیاء گر بیداری اسلامی و علمدار مقاومت" کے عنوان سے ایک فکری و تربیتی سمینار منعقد ہوا۔ جس میں نمائندہ ولی فقیہ پاکستان و قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی، مرکزی سیکرٹری جنرل شیعہ علماء کونسل پاکستان علامہ شبیر حسن میثمی اور ممتاز عالم دین علامہ سید کاظم رضا نقوی نے خطاب کرتے ہوئے رہبر شہید (ره) کے مشن، انقلاب اسلامی، اتحاد امت، مقاومت اور تنظیمی استحکام کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔

علامہ سید کاظم رضا نقوی نے اپنے خطاب میں کہا: پاکستان میں علامہ سید ساجد علی نقوی کا کردار وہی رہا جو انقلاب اسلامی ایران میں رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ سید علی خامنہ‌ای کا رہا ہے۔

رہبر شہید (ره) کے مشن، اتحاد امت اور انقلاب اسلامی کی ترویج پر زور / انقلاب اسلامی نے علماء اور دینی قیادت کو عزت و وقار عطا کیا، مقررین

انہوں نے کہا: انقلاب اسلامی نے علماء اور دینی قیادت کو عزت و وقار عطا کیا اور اگر ایک مخلص عالم دین اپنی ذمہ داری ادا کرے تو وہ رضا شاہ پہلوی جیسے استبدادی نظام کو بھی شکست دے سکتا ہے۔ جس کردار کا مظاہرہ امام حسین علیہ السلام نے کربلا میں کیا، آج اسی فکر کی تجدید رہبر معظم انقلاب اسلامی نے کی ہے۔

علامہ سید کاظم رضا نقوی نے مزید کہا: حقیقی تبدیلی کا آغاز انسان کی اپنی ذات سے ہوتا ہے۔ جو شخص اپنی عملی زندگی میں اسلام نافذ نہ کر سکے، وہ معاشرے یا امت میں اسلامی نظام نافذ کرنے کا دعویٰ نہیں کر سکتا۔

رہبر شہید (ره) کے مشن، اتحاد امت اور انقلاب اسلامی کی ترویج پر زور / انقلاب اسلامی نے علماء اور دینی قیادت کو عزت و وقار عطا کیا، مقررین

علامہ شبیر حسن میثمی نے اپنے خطاب میں کہا: انقلاب اسلامی کی برکت سے پرچم اسلام سربلند ہوا اور دنیا نے ایسی قیادت دیکھی جو دوسروں کو قربان کرنے کے بجائے خود شہادت کے لیے میدان میں اترتی ہے۔

انہوں نے کہا: رہبر شہید (ره) کی شہادت کے بعد پاکستان کے مختلف مکاتب فکر اور طبقات نے ان کی عظمت کا اعتراف کیا جبکہ دنیا بھر کے مستضعفین کی امیدیں آج بھی انقلاب اسلامی اور جمہوریہ اسلامی ایران سے وابستہ ہیں۔

مرکزی سیکرٹری جنرل شیعہ علماء کونسل پاکستان نے مزید کہا: حسینی پرچم اٹھانے والے نہ خوفزدہ ہوتے ہیں اور نہ ہی باطل کے سامنے سر جھکاتے ہیں۔

رہبر شہید (ره) کے مشن، اتحاد امت اور انقلاب اسلامی کی ترویج پر زور / انقلاب اسلامی نے علماء اور دینی قیادت کو عزت و وقار عطا کیا، مقررین

قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے اپنے خصوصی خطاب میں کہا: رہبر شہید (ره) کے پاک خون نے انقلاب اسلامی کی عظمت اور اس کے پیغام کو مزید تابناک بنا دیا ہے۔

انہوں نے کہا: مختلف ادیان و مذاہب کے نمائندوں کی جانب سے اظہارِ تعزیت اس بات کا ثبوت ہے کہ رہبر شہید (ره) کی مظلومانہ شہادت پر ہر انصاف پسند دل رنجیدہ تھا اور ان کی عظمت کا معترف تھا۔

علامہ سید ساجد علی نقوی نے طلبہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا: اپنی علمی اور فکری صلاحیتوں کو اجاگر کرنا آپ کی ذمہ داری ہے کیونکہ مستقبل میں ملت تشیع کی قیادت آپ ہی میں سے افراد نے سنبھالنی ہے۔ اپنے امور میں نظم و ضبط پیدا کریں کیونکہ کامیابی منظم جدوجہد سے وابستہ ہوتی ہے۔

انہوں نے پاکستان میں ملت تشیع کے خلاف ہونے والے گھناؤنی سازشوں اور ان کا مقابلہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: متنازعہ بل کو تمام تر سیاسی حمایت کے باوجود ہماری مؤثر جدوجہد کے نتیجے میں قانونی حیثیت حاصل نہ ہو سکی۔

رہبر شہید (ره) کے مشن، اتحاد امت اور انقلاب اسلامی کی ترویج پر زور / انقلاب اسلامی نے علماء اور دینی قیادت کو عزت و وقار عطا کیا، مقررین

قائد ملت جعفریہ نے کہا: اتحاد مسلمین کے ساتھ اتحاد المؤمنین بھی انتہائی اہم ہے اور ہم نے ہمیشہ تمام مکاتب فکر کے احترام اور باہمی ہم آہنگی کو فروغ دیا ہے۔ ہم سب کا احترام کرتے ہیں، کئی دفعہ کئی باتوں پر ہم اپنے دین، ملت و قوم کے بلند اہداف و مقاصد کو مدنظر رکھتے ہوئے خاموشی اختیار کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا: رہبر شہید (ره) کی وحدت امت، اتحاد اور دیگر مکاتب کے مقدسات کے احترام پر مبنی فکر نے پاکستان میں انتہائی مثبت اثرات مرتب کیے ہیں۔

رہبر شہید (ره) کے مشن، اتحاد امت اور انقلاب اسلامی کی ترویج پر زور / انقلاب اسلامی نے علماء اور دینی قیادت کو عزت و وقار عطا کیا، مقررین

قائد ملت جعفریہ نے زائرین کے مسائل کا ذکر کرتے ہوئے کہا: زائرین کے حوالے سے مسلسل کوششیں جاری ہیں اور متعلقہ اداروں کو بھی اپنی ذمہ داریاں پوری کرنی چاہئیں۔

انہوں نے کہا: ہمیں ملک پاکستان بہت عزیز ہے، ہم بلوچستان کے مسئلے کو کسی کے لیے بہانہ نہیں بننے دینا چاہتے، تاہم اگر ہمیں مجبور کیا گیا اور زیارت کے حوالے سے عوامی تحریک کی کال دی جائے تو اس کے نتائج سے سب آگاہ ہیں، اس لیے ذمہ داران سے تقاضا کرتے ہیں کہ اس مسئلے کو سنجیدگی سے حل کیا جانا چاہیے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha